جسٹس ٹھاکرنے خطِ افلاس اورروزگارکے مسائل پربھی اظہارِخیال کیا
نئی دہلی15اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) لال قلعہ کے فصیل سے پی ایم مودی کی تقریر میں ججوں کی تقرری کا کوئی ذکر نہیں ہونے پر چیف جسٹس آف انڈیاٹی ایس ٹھاکرنے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے پاپولر پرائم منسٹر کا خطاب ڈیڑھ گھنٹے سنا اور لاء منسٹر صاحب کابھی سنا، میں نے یہ امید کر رہا تھا کہ ججوں کی تقرری کے بارے میں بات ہوگی۔چیف جسٹس نے کہا کہ انگریزوں کے وقت میں تو دس سال میں مقدمے کا فیصلہ ہو جاتا تھا۔وہ اب نہیں ہو رہاہے۔اب تو کیسزاتنے بڑھ گئے، مقدمے اتنے بڑھ گئے اور لوگوں کی امیدیں بھی بڑھ گئی ہیں۔بہت مشکل ہو رہا ہے، اس لئے میں نے بار بار گزارش کی ہیں کہ ذرا اس پر بھی توجہ دیجئے۔چیف جسٹس آف انڈیا پہلے بھی ججوں کی تقرری کے معاملے کو وزیر اعظم مودی کے سامنے اٹھا چکے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ میں یہ مانتا ہوں کہ جو بھی تہوار منایا جاتا ہے، اس کی اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے۔پندرہ اگست کے دن کی بھی اپنی خاصیت ہے۔ہمیں اس اہمیت کو کمزور نہیں کرنا چاہئے۔آزادی کے وہ سپاہی جنہوں نے قربانی دی، جیل کی اذیتیں سہیں، ان کویادکرنے کادن ہے۔ آپ نے غربت کی لکیر بھی ایسی بنائی ہے کہ 26روپے گاؤں میں اور 32روپے شہر میں کمانے والاشخص غربت کی لکیر سے اوپر چلا جاتا ہے۔ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ کیا ہم 70سال بعد غربت کو ہٹا پائے ہیں۔آج روزگار کی پریشانی ہے۔آج اگر میں سپریم کورٹ میں چپراسی کیلئے ویکنیسی دوں تو پوسٹ گریجویٹ بھی اپلائی کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں کورٹ کے باہر بھی اور کورٹ کے اندر بھی بڑی بیباکی سے بولتا ہوں، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ میری زندگی کا جو سب سے بلند درجہ ہے، میں وہاں پہنچ ہوں۔اس سے آگے مجھے کہیں نہیں جانا، اس لیے مجھے کسی چیز کی پریشانی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ہچکچاہٹ ہے۔صحیح بات آپ کے دل کو چھوئے گی اوریہی میری طاقت بھی ہے۔